ابنا: يہ واقعہ جمعے کے روز اس وقت پيش آيا جب مدينہ منورہ ميں مقيم صوبہ قطيف کے شہريوں نے جن ميں مرد و خواتين دونوں شامل تھے، قبر نبي کي زيارت کے دوران بلند آواز سے آپ کي ذات اقدس پر درود و سلام بھيجنا شروع کيا-سعودي سيکورٹي اہلکاروں نے حرم پاک کي بے حرمتي کرتے ہوئے درود و سلام کا نذرانہ پيش کرنے والے زائرين کو بے پناہ تشدد کا نشانہ بنايا اور بعدازاں انہيں گرفتار کرکے لے گئي-نبي پاک اور انکي آل پر درود و سلام بھیجنے والے شيعہ مسلمانوں کي گرفتاري ايسے وقت ميں عمل ميں آئي جب چودہ اگست کو مکے ميں ہونے والے او آئي سي کے اجلاس کے دوران سعودي عرب کے بادشاہ ملک عبداللہ نے مذہبي رواداري کے قيام کے لئے رياض ميں بين المسالک ڈائيلاگ مرکز قائم کرنے کي تجويز پيش کي تھي-تازہ گرفتاريوں سے اس بات کي نشاندھي ہوتي ہے سعودي حکومت ملک کے شيعہ مسلمانوں کو مذہبي آزادي دينے کے لئے اب بھي تيار نہيں ہے-ايمنيسٹي انٹر نيشنل کا کہنا ہے سعودي حکومت ملک کي مذہبي اقليتوں کو سختي کے ساتھ کچلتي چلي آرہي ہے اور انہيں بنيادي شہري حقوق دينے کے لئے بھي تيار نہيں ہے-
.......
/169